Daily Archives: April 30, 2009

عقل ہے پریشان

عقل ہے پریشان سمجھ کی نا سمجھی پر
ہنسوں اپنی سوچ پہ یا اُن کی عقلمندی پر

یہ شعر خود بخود میرے دماغ نے بنا دیا اور لکھتے ہی بنی ۔ آپ بھی مُلک کے حالات پر نظر ڈالنے کے بعد نیچے لکھی خبر پڑھیئے ۔ شاعری دماغ سے خود بخود نہ نکلے تو ۔ ۔ ۔

خبر
اقوم متحدہ کے امدادی اداروں نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ متاثرہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں سے مذاکرات کیے جائیں تاکہ متاثرین کی بحالی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو ۔ دوسری جانب عالمی ادارہ ریڈ کراس کے چیف نے دورہ پاکستان میں اعلیٰ پاکستانی حکام اور ملٹری آفیشلز سے ملاقات کی اور بحرانی انسانی صورتحال پر گفتگو کی ۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے نمائندوں اور پاکستانی سفارتکاروں کے ہمراہ ایک اجلاس میں پاکستانی قبائلی علاقوں میں آپریشن سے متعلق صورتحال پر گفتگو کی گئی

کراچی کے طالبان ۔ 3

بروز بُدھ بتاریخ 29 اپریل
نارتھ کراچی میں زرینہ کالونی میں صبح دو گروپوں میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد دونوں جانب سے لوگ مورچہ بند ہوگئے اور ایک دوسرے پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کرتے رہے ۔ فائرنگ کے باعث علاقہ خوفناک آوازوں سے گو نجتا رہا ۔ زرینہ کالونی میں دو طرفہ فائرنگ سے محمد شاہد ۔ محمد خلیل۔ جمعہ خان اور دوست علی ہلاک ہوگئے ۔ ان ہلاکتوں کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شہر کے مختلف علاقوں میں پھیل گیا اور نامعلوم مسلح افراد نے موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر رکشے والوں ۔ ٹھیلے والوں اور د کانداروں کو گولیوں کا نشانہ بنایا ۔

نامعلوم مسلح افرا د کی فائرنگ سے سچل رینجرز کا صوبیدار ذوالفقار ڈوگی ۔ خواجہ اجمیر نگری کا سب انسپکٹر معین الرحمن اور پی سی سجاد زخمی ہوگئے جبکہ خواجہ اجمیر نگری کے علاقے میں فائرنگ سے سوہنی خاتون ۔ یاسر ۔ رحیم ۔ عامر ۔ محمد سلیم ۔ محمد امیش ۔ 12 سا لہ اقراء اور 5 سا لہ مقصود زخمی ہوگئے ۔ شرپسندوں نے شا ہ فیصل کالونی میں محمد دین کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا جو زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گیا ۔ اس پر لوگوں نے علاقے کی دکانیں بند کرادیں اور گاڑیوں پر پتھراؤں کیا ۔ گلستان جوہر میں نامعلوم افراد نے منی بس کے ڈرائیور راج ولی کو گاڑی سے اتا ر کر گولی مار کر ہلاک کردیا اور منی بس کو نذرآتش کردیا اور پرفیوم چوک پر ایک ہوٹل کو آگ لگادی ۔ اس و قت فائرنگ کا بھی تبادلہ ہوا ۔ مختلف فلیٹوں کی چھتوں سے بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔

نیو کراچی صنعتی ایریا میں نامعلوم مسلح افراد نے دو رکشوں کو روک کر ڈرائیوروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا ۔ نارتھ ناظم آباد جے بلاک میں مکئی کے دانے فروخت کرنے والے نو جوان کو موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا جو زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گیا ۔ سرجانی ٹاؤن میں نامعلوم افرادنے فائرنگ کرکے وحید اللہ ۔ سلیم خان ا ور پھل فروش زمرد خان کو زخمی کردیا ۔ نامعلوم مسلح افراد نے پھل فروشوں کی دکانوں کو نذرآتش کردیا ۔ سرسید ٹاؤن کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے منی بس پر فا ئرنگ کی جس سے ڈرائیور ہلاک ہوگیا ۔ گاڑی کو آگ لگادی گئی ۔ اورنگی ٹاؤن میں نامعلوم افراد نے ہوائی فائرنگ کرکے خوف و ہراس پھیلادیا اور فائرنگ کی جس سے 5 افراد فتح جان ۔ خیر خان ۔ رکشا ڈ رائیور آدم خان اور ایک راہگذر زخمی ہوگیا ۔ کئی ٹھیلوں کو نامعلوم مسلح افرا د نے آگ لگادی ۔

عباسی شہید اسپتال میں فائرنگ سے ہلا ک کئے جا نے والوں کی 13 اور جناح اسپتال میں12 لاشیں لائی گئیں جبکہ ہلاک ہونے والے دیگر افر اد کی لاشیں مختلف اسپتالوں میں لائی گئیں ۔ مختلف علاقوں میں خدا بخش ۔ شا ہ خا لد ۔ ظہور شاہ ۔ انور، موسیٰ خان ۔ ز ر گل ۔ 9 سالہ تعاون خان ہلاک ہو ئے ۔ پیالہ ہوٹل کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 30 سالہ شخص ہلا ک ہوگیا ۔ کورنگی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے طوری خان کو زخمی کردیا اور موٹر سائیکل چھین لی ۔

سرجانی ۔ نیو کراچی ۔ نارتھ ناظم آباد ۔ اورنگی ٹاؤن ۔ پیر آباد ۔ کورنگی ۔ حیدری ۔ ناظم آباد ۔ کورنگی ۔ گلستان جوہر ۔ گلشن اقبال ۔ پاک کالونی ۔ بفرزون ۔ لیاقت آباد ۔ سائٹ ۔ شاہ فیصل کالونی ۔ اورنگی ٹاؤن میں نامعلوم افراد نے بسوں ۔ منی بسوں ۔ ٹرکوں ۔ سوزوکیوں ۔ موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کر دیا ۔

بُدھ 29 اپریل اور جمعرات 30 اپریل کی درمیانی رات

کراچی کے مختلف علاقوں میں رات گئے تک وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا ۔ کراچی میں مختلف علاقوں میں رات گئے آتشزدگی کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں ۔ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے منگھوپیر میں واقع فیکٹری ۔ گلشن اقبال میں بیت المکرم مسجد کے قریب دکان ۔ شاہ فیصل کالونی میں رنگ ساز کی دکان اورگارڈن فوارہ چوک پر ایک مسافر بس کو آگ لگا دی

نامعلوم = یہ اُس گروہ کے لوگ ہیں کہ اگر اخبار والے اس کی نشاندہی کر دیں تو اُن کا دفتر اور اپنی جانیں غیر محفوظ ہو جاتی ہیں ۔ ان کی کچھ تشریح اس ضرب المثل سے ہوتی ہے “بغل میں چھُری ۔ منہ میں رام رام ”

کراچی کے طالبان ۔ 2

بروز منگل بتاریخ 28 اپریل لیاری میں ایک گروپ نے کچھ دکانداروں کو بھتے کی پرچیاں دیں جس پر وہاں لوگ جمع ہوگئے اور انہوں نے مزاحمت کی جس پر جرائم پیشہ افراد نے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں جس پر لوگ ہتھیار بند ہو کر بیٹھ گئے اور جب جرائم پیشہ افراد فائرنگ کرتے ہوئے آئے تو وہاں موجود افراد نے بھی جوابی فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد دو طرفہ فائرنگ شروع ہوگئی جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوگئے اور مسلح افراد جدید اسلحہ سے لیس ہو کر ایک دوسرے پر فائرنگ کرتے رہے ، فائرنگ کے باعث سنگھو لائن پرانا کمہار واڑہ میں گولی لگنے سے 18 سالہ انعم دختر رجب علی ہلاک ہوگئی وہ گھر کی بالکونی میں موجود تھی، اور احمد شاہ بخاری روڈ پر 11سالہ آمنہ دختر ابراہیم فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوگئی اور وہاں موجود اسد، ذیشان، اطہر، ندیم، کریم، بشیر اور محمد فاروق زخمی ہوگئے

آگرہ تاج کالونی میں بابو ہوٹل کے قریب 35 سالہ محمد انور گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا، 25 سالہ ندیم بلوچ، اور 22 سالہ اسد ولد پیر محمد ہلاک ہوگیا اور احمد شاہ بخاری روڈ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 55 سالہ آدم ہلاک ہوگیا اور نور زیب، اسلم اور عامر زخمی ہوگئے ۔ نامعلوم افراد نے راکٹ فائر کیا جو مچھر کالونی میں صدام چوک کے قریب عبدالرشید کے گھر پر گرا جس سے خوفناک دھماکہ ہوا راکٹ چھت کو چیرتا ہوا گھر میں داخل ہوا جس سے مکان تباہ ہوگیا اور وہاں موجود 5 سالہ حیات اللہ ہلاک ہوگیا، 2 سالہ منورہ، 45 سالہ انوری بیگم،23 سالہ خدیجہ، راشدہ ستارہ خاتون اور حافظہ خاتون زخمی ہوگئی

اس واقعہ کے بعد علاقے کے لوگوں نے شدید احتجاج کیا اور پولیس کے خلاف زبردست نعرے بازی کی جبکہ لیاری میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مچھر کالونی میں سلمان زخمی ہوگیا ، لیاری میں نامعلوم افراد نے مختلف مقامات پر ہینڈ گرینیڈ پھینک کر خوف و ہراس پھیلا دیا اور جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کی ، پولیس کسی ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی، فائرنگ کے دوران کئی مساجد سے امن کیلئے اعلانات بھی کئے گئے اور فائرنگ بند کرنے کی اپیل بھی کی گئی۔

لیاری اور شاہ بخاری سے 3افراد کی لاشیں ملیں جن میں سے دو جلی ہوئی تھیں۔ ہلاک ہونے والوں میں غنی، آفتاب اور ایک 30سالہ شخص شامل ہے۔ آفتاب اور غنی کرین آپریٹر ہیں دونوں گاڑی کھڑی کرکے آرہے تھے کہ نامعلوم افراد نے اغوا کرکے قتل کردیا

نامعلوم = یہ اُس گروہ کے لوگ ہیں کہ اگر اخبار والے اس کی نشاندہی کر دیں تو اُن کا دفتر اور اپنی جانیں غیر محفوظ ہو جاتی ہیں ۔ ان کی کچھ تشریح اس ضرب المثل سے ہوتی ہے “بغل میں چھُری ۔ منہ میں رام رام “

بلوچستان ۔ اسلام آباد کسی کی نہیں سُنتا

سرکاری بیان
صدر صاحب اور دیگر حکومتی افراد نے بار بار کہا ہے کہ وہ بلوچستان کے حالات بہتر کرنا چاہتے ہیں ۔ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے ۔ مرکز میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے ۔ صوبائی گورنر کا تقرر صدر کرتا ہے اور وہ صدر ہی کا صوبے میں نمائندہ ہوتا ہے [گورنر وفاق کا نمائندہ اُس وقت بنے گا جب پارلیمنٹ کے اختیارات جو پچھلے صدر نے غصب کئے تھے وہ آئینی ترمیم کے ذریعہ پارلیمنٹ کو واپس کر دیئے جائیں گے] ۔

حقیقت
بلوچستان کے گورنر نواب ذوالفقار علی مگسی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کسی کی بات نہیں سنتا ۔ معاملات کو اگر نہ سنبھالا گیا تو بلوچستان ہاتھ سے نکل سکتا ہے ۔ بلوچستان کا مسئلہ نواب یا سردار حل نہیں کرسکتا بلکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ وہ بلوچستان کے سلسلے میں وفاقی حکومت کو تجاویز دیتے ہیں لیکن ان کی بات نہیں سنی جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام سے کی جانی والی زیادتیوں کا ازالہ کرنا ضروری ہے ۔ بلوچ جو مسائل بتا رہے ہیں وہ صحیح ہیں اور ان کو حل کرنے کیلئے وفاقی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ اس طرح کے چھوٹے چھوٹے مسئلے بعد میں بڑے مسائل بن جاتے ہیں جس سے ملک ٹوٹ جاتے ہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا میں مرکز کا نمائندہ ہوں لیکن مرکز نے کبھی بھی مجھے بلوچستان کے مسائل پر اعتماد میں نہیں لیا جب وہ مجھے اعتماد میں لیں گے تو ضرور بلوچستان اور یہاں پر رہنے والوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے بات کروں گا

صوبہ سرحد ۔ اصل حُکمران کون ؟

سرکاری بیان
حکومتی اہلکاروں اور وزراء نے بڑے وثوق سے کہا تھا کہ دیر میں کاروائی وہاں کے عوام کی درخواست پر شروع کی گئی ۔ یہ الگ بات ہے کہ ٹی وی پر اس کاروائی کے حق میں جن عوام کو بولتے دکھایا گیا اُن میں شامل تھیں اسلام آباد کی روشن خیال خواتین جو دوپٹے اور بالوں کو بوجھ سمجھ کر اُتار چُکی ہیں اور کنیئرڈ کالج لاہور کی طالبات جو اُردو کم اور انگریزی زیادہ بول رہی تھیں

حقیقت
دیر کے علاقے میدان میں فوجی آپریشن اور اس میں بے گناہ عوام کی ہلاکتوں کے خلاف منگل کے روز تیمرگرہ اور چکدرہ میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ اور شٹرڈاؤن کیا۔ مظاہرین نے کئی گھنٹے تک چترال روڈ بلاک کردی اور چکدرہ بازار میں دھرنا دیا۔تیمر گرہ میں مظاہرہ جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی، جے یو آئی، اے این پی، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق نے منعقد کیا جس سے تیمرگرہ امن جرگہ کے صدر حاجی محمد رسول خان، مظفر سعید و دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں دیر آپریشن کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ، آپریشن بند نہ کیا گیا تو عوام فوج کے خلاف اسلحہ اٹھانے پرمجبور ہوجائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور فوجی قیادت پر عائد ہوگی۔ مقررین نے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار کے اس بیان کی سخت مذمت کی کہ دیر میں فوجی آپریشن نہیں ہورہا ہے صرف جوابی کارروائی ہے۔

چکدرہ سے نمائندہ کے مطابق میدان میں فوجی آپریشن کے خلاف عوامی مظاہرہ ہوا۔ مظاہرے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ علاقے کے تمام چھوٹے بڑے بازار بند رہے، مظاہرین نے پیدل مارچ کرکے چکدرہ بازار میں دھرنا دیا اور مین چترال روڈ کو کئی گھنٹے بلاک کیا۔ احتجاجی مظاہرے سے سینیٹر مولانا گل نصیب خان، چیئرمین قومی جرگہ ہمایوں خان ایڈووکیٹ و دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے حکومت کی طرف سے ملاکنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے عملی نفاذ میں تاخیر پر تنقید کرتے ہوئے حکومت کو امن وامان تباہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہاکہ عوام افواہوں پر نہ جائیں ،جمہوری حکومت ڈکٹیٹر سے آگے بڑھ گئی اور انہوں نے ضلع دیر لوئر و اپر سے منتخب ہونے والے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی سے دو دن کے اندر میدان آپریشن بند کرنے اور مالاکنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے عملی اقدامات فوری طورپر کرنے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا بصورت دیگر ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا