Daily Archives: March 4, 2009

لبرٹی حملہ نااہلی تھا یا ملی بھگت

سری لنکا کے کھلاڑیوں پر حملہ کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر میں جو کچھ سن چکا تھا دل و دماغ اسے ماننے کیلئے تیار نہ تھا ۔ میں آج دو پہ اور پھر سہ پہر کو یعنی دو بار لکھتے لکھتے ڈر کر رُک گیا کہ قارئین کہیں مجھ پر حملہ کر کے میرا منہ ہی نہ نوچ ڈالیں ۔ اب کہ جیو ٹی نے وہ وڈیو چلا دی ہے جس سے میری سنی ہوئی باتیں درست ثابت ہو گئی ہیں تو لکھنے کی ہمت ہوئی ہے ۔

گذشتہ رات سلمان تاثیر اور رحمان ملک سمیت سرکاری اہلکاروں نے بلند بانگ دعوے کئے تھے اور حملہ آور 12 بتائے تھے ۔ اُن کی کارکردگی کا پول لاہور والوں کے سامنے تو کل ہی کھُل گیا تھا اور مجھے بھی کسی نے بتا دیا تھا ۔ حملہ آور جو کُل 8 تھے اور تین تین اور دو کی ٹولیوں میں حملہ آور ہوئے تھے ۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ کل صبح 8 بج کر 42 منٹ پر حملہ شروع ہوا اور 25 منٹ جاری رہا ۔ اس کے بعد حملہ آور بڑے اطمینان سے ٹہلتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوئے اور ایک قریبی سڑک پر جا کر موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر فرار ہوئے ۔ جب تیسری ٹولی موٹر سائکل پر روانہ ہوئی اس وقت 9 بج کر 44 منٹ ہوئے تھے

لاہور کے لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ رحمان ملک کی زیرِ نگرانی ہوا ہے ورنہ ایسے ہو ہی نہیں سکتا کہ حملہ ہونے کے بعد پولیس اور ایجنسیاں پورے علاقے کو چاروں طرف سے نہ گھیر لیتیں اور نہ حملہ آور اس آسانی سے فرار ہو سکتے تھے ۔ خیال رہے کہ حملہ سے ایک دن قبل یعنی پیر کے روز رحمان ملک لاہور میں سلمان تاثیر کے ساتھ خصوصی میٹنگ گر کے آئے تھے

نجومی کون ہے ؟

فرانس کے حکمران لوئی ششم [1423ء تا 1483ء] ۔ جو علم نجوم پر بہت یقین رکھتا تھا ۔ کو ایک دِن کسی نجومی نے بتایا کہ ملکہ کا اگلے آٹھ دِنوں میں انتقال ہو جائے گا۔ جب واقعی ایسا ہو گیا تو بادشاہ گھبراگیا کہ نجومی تو انتہائی خطرناک ہے یا تو اس نے اپنی پیش گوئی سچ ثابت کرنے کیلئے خود ملکہ کو قتل کیا ہے یا پھر وہ اس طرح کی پیش گوئیاں بیان کرتا ۔ وہ مستقبل میں اُسکی بادشاہت بھی ختم کرسکتا ہے

بادشاہ نے نجومی کو گرفتار کرواکر قلعہ کی چھت سے اُلٹا لٹکا کر نیچے پھینکنے کا حکم دیا ۔ آخری لمحات میں نجومی سے پوچھا ”مرنے سے پہلے اتنا بتاجاؤ کہ میں یعنی بادشاہ کب تک زندہ رہوں گا“

نجومی نے انتہائی ادب سے جواب دیا “حضور ۔ میری موت آپ سے صرف تین دِن پہلے لکھی ہے“

حُکم پر تعمیل روک دی گئی اور بادشاہ اگلے کئی برس خود سے زیادہ اُس نجومی کی حفاظت کرتا رہا اور پھر بادشاہ کے انتقال کے کئی برس بعد تک نجومی قہقہے لگا کر یہ قصہ سناتا کہ

”طاقت کے حصول سے زیادہ اُسے برقرار رکھنے کی خواہش اور طاقت چھِن جانے کا ڈر حکمرانوں سے غلطیوں کا سبب بن جایا کرتا ہے”

یہ واقع کچھ دن قبل ڈاکٹر شاہد مسعود نے پروگرام “میرے مطابق” میں سنایا ۔ میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے مُلک میں نجومی کون ہے اور اُس نے آصف علی زرداری سے کیا کہہ رکھا ہے ؟