سُنا کرتے تھے کہ بچے سب کو پیارے ہوتے ہیں خواہ کسی کے بھی ہوں ۔ یہاں تک کہ خطرناک جانور بھی انسان کے بچوں کو گزند نہیں پہنچاتے ۔ فی زمانہ تو اپنے آپ کو تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ کہنے والے انسان بھی انسان کے بچوں کے دُشمن ہی نہیں قاتل بن چکے ہیں اور اسے اپنا کارنامہ گردانتے ہیں ۔ اس وحشت کی مثالیں ہر روز فلسطین ۔ عراق ۔ افغانستان اور پاکستان میں ملتی ہیں ۔ پاکستان کے دو واقعات کی یاد پر تو میرا دل روتا ہے ۔ باجوڑ ایجنسی میں ڈماڈولا کے مدرسہ پر امریکی فوج نے میزائل پھینک کر 5 اساتذہ اور 70 سے زائد طُلباء ہلاک کر دیئے تھے جن میں دو درجن سے زائد 8 سے 15 سال کے تھے ۔ جامعہ حفصہ اسلام آباد میں اپنے ہی ملک کی فوج نے چار پانچ سالہ بچیوں سمیت سینکڑوں نابالغ طالبات کو سفید فاسفورس کے بم پھینک کر بھسم کر دیا تھا ۔
ٹارزن کی کہانیاں اور مووی فلمیں بہت مشہور ہیں ۔ یہ سب ایک کہانی سے متاثر ہو کر لکھی گئیں کہ ایک بچہ کسی طرح جنگل میں رہ گیا تھا ۔ وہ جنگلی جانوروں کے ساتھ پل کر جوان ہوا تو وہ سب اُس کے دوست بن گئے تھے ۔ شاید دو دہائی قبل کا واقعہ ہے کہ جنگلی مخلوق پر تحقیق کرنے والوں کو ایک جنگل میں انسان کا آٹھ دس سالہ بچہ نظر آیا اور پھر نظروں سے اوجھل ہو گیا ۔ دو تین بار اسی طرح ہوا ۔ آجر ایک دن اس بچے کو پکڑ لیا گیا ۔ اُس کی سب عادات جنگلی بندروں کی سی تھیں ۔ اُس نے پکڑنے والے کو اپنے دانتوں سے کاٹ بھی لیا تھا ۔
پرانے زمانہ یعنی وہ زمانہ جسے آج کے ترقی یافتہ انسان پسماندہ کہتے ہیں کی باتیں ہی کچھ اور تھیں ۔ میری والدہ نے ہمیں سنایا تھا کہ والدہ کی نانی صاحبہ نے اُنہیں بتایا کہ میری نانی بچپن میں بہت بھولی بھالی ہوتی تھیں ۔ میری نانی کی والدہ نے ایک دن میری نانی کو دہی کھانے کیلئے دیا اور خود کام میں مصروف ہو گئیں ۔ کچھ دیر بعد اُنہیں میری نانی کی آواز آئی ۔ وہ کہہ رہی تھیں “تم کھاؤ ۔ میں بھی کھاؤں گی”۔ میری نانی کی والدہ دیکھنے کیلئے دوڑی گئیں کہ بیٹی کس سے باتیں کر رہی ہے ۔ اُنہوں نے دیکھا کہ میری نانی کے پاس ایک لمبا سا اصلی سانپ ہے ۔ وہ سانپ کا سر پکڑ کر دہی میں ڈبوتی ہے اور کہتی ہے “تو بھی کھا”۔ پھر سانپ کو چھوڑ کر کہتی ہے “میں بھی کھاؤں گی” اور خود دہی کھاتی ہے ۔ یہ عمل وہ بار بار کر رہی تھی ۔ میری نانی جان کی والدہ کچھ دیر دم بخود ہو کر دیکھتی رہیں پھر انہوں نے شور مچایا جس سے سانپ تیزی سے گھر سے باہر نکل گیا ۔ بعد میں جب میری نانی کی والدہ کے حواس درست ہوئے تو اُنہوں نے سوچا کہ اُنہیں شور نہیں کرنا چاہیئے تھا اور دیکھتے رہنا چاہیئے تھا کیونکہ سانپ تو بیٹی کے ہاتھ میں کھلونا بنا ہوا تھا ۔