آج کراچی پریس کے سامنے میڈیا پر پابندی اور آزادی صحافت کی بحالی کیلئے صحافی احتجاجی مظاہرہ کررہے تھے جس میں میڈیا سے وابستہ افرادبڑی تعداد شریک تھے ۔ میڈیا کے نمائندے حکام سے بات چیت کے لیے گورنر ہاؤس جا رہے تھے کہ پولیس نے انہیں روکا اور ان کا پیچھا کرتے ہوئے پریس کلب میں گھس گئی،پولیس نے 3 بجکر 45 منٹ پر صحافیوں پر لاٹھی چارج شروع کر دیاجس سے کئی صحافی زخمی ہوئے اور ان کے سرپھٹ گئے۔پولیس صحافیوں سمیت 150 افراد کو گرفتار کر لیا جن میں کراچی پریس کلب کے صدر صبیح الدین غوثی ،سیکریٹری امتیاز فاران ،کے یو جے کے صدر شمیم الرحمان ،خازن عامر لطیف سمیت کئی رہنماء شامل ہیں۔ پولیس نے خواتین صحافیوں پر بھی لاٹھی چارج کیا اور انہیں ہراساں کیا۔صحافیوں نے پولیس تشدد اورگرفتاریوں کے خلاف دھرنا دیا اور اجتماعی گرفتاری دینے کا اعلان کیا۔کئی زخمی صحافیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال پہنچایا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے ۔ صحافی برادری نے پولیس کی اس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے اور اجتماعی گرفتاریاں دینے کا اعلان کیا ہے اور اس شرمناک کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی
گئی ہے ۔ دوسری جانب جیو کے کراچی آفس کے باہر پولیس اور رینجرز کی مزید نفری تعینات کردی گئی ہے۔ جیو نیوز کے کارکنوں کی گرفتاری کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے ۔
Daily Archives: November 20, 2007
گذارش ۔ امریکہ ۔ پرویز مشرف ۔ بینظیر
وائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈانا پرینو نے کہا ہے کہ امریکی نائب وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے صدر مشرف کو ’صاف اور سیدھا‘ پیغام پہنچایا ہے اور دیکھنا ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ڈپلومیسی کے نتائج فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے اس لیے ہم نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ صدر مشرف نے دو ہفتے قبل لگائی جانے والی ایمرجنسی ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’مشرف نے انتخابات کا اعلان کر دیا ہے، جو ایک اچھی بات ہے اور وہ وردی بھی اتار دیں گے یہ بھی پاکستانی عوام کے لیے ایک اچھی بات ہے‘۔
ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا صدر بش نے ایمر جنسی ختم کرنے کے لیے کوئی وقت دیا ہے؟ اور اگر دیا ہے اور اس وقت تک ایمرجنسی نہیں اٹھائی گئی تو کیا کوئی کارروائی کی جائے گی؟ تو ترجمان کا جواب تھا کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور صدر بش صرف گزارش ہی کر سکتے ہیں۔
برجیش اوپادھیائے کا کہنا ہے کہ حکومت میں تھنک ٹینک کے لوگوں اور حکومتی اہلکاروں کی بات چیت سے یہی تاثر ملتا ہے کہ امریکہ پاکستان میں ایک ایسی حکومت چاہتا ہے جس میں مشرف بھی ہوں اور بینظیر بھی ہوں اور صدر مشرف ایک جمہوری حکومت اور فوج کے درمیان ایل پُل کا کام کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو یہ ڈر بھی ہے کہ اگر انہوں نے اس وقت مشرف کے خلاف کڑے قدم اٹھائے اور مشرف ان کے نتیجے میں بھی نہیں ہٹے چاہے یہ عرصہ چھ ماہ ہی کا کیوں نہ ہو تو کیا ہو گا۔
’امریکہ کو ابھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اور افغانستان میں اپنی فوج کے لیے پاکستان کی ضرورت ہے کیونکہ افغانستان میں فوج کے لیے تمام سامانِ رسد اور دوسرا ساز و سامان، ایندھن وغیرہ کراچی سے ہو کر جاتا ہےاور یہ فوج کی منظوری ہی سے ممکن ہے‘۔ ایسے حالات میں امریکہ مشرف سے الگ نہیں ہونا چاہتا۔
اوپدھیائے کے مطابق امریکہ کو ابھی بھی بینظیر اور مشرف کے درمیان مفاہمت کی امید ہے اوت اسی لیے بار بار کہا جا رہا ہے کہ ڈپلومیسی کے نتائج فوری نہیں آتے۔
بلا تبصرہ
مقرر کی داڑھی پر نظر نہ ڈالئے