پاکستان ٹی وی اور پاکستان ریڈیو کی تمام شاخوں پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے ۔
شاہراہ دستور پر رینجرز کا قبضہ ہے
اسلام آباد کے کئی علاقوں مین تمام ٹیلیفون بند ہونے کی اطلاع ہے
پی سی او [Provisional Constitutional Order] چیف آف آرمی سٹاف نے جاری کیا ہے ۔ صدر نے جاری نہیں کیا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں باقاعدہ مارشل لاء لگ چکا ہے ۔
چیف جسٹس صاحب اور عدالتِ عظمٰی کے 8 جج صاحبان نے پی سی او کے مطابق حلف اَٹھانے یا اس پر دستخط کرنے انکار کر دیا ہے ۔
Daily Archives: November 3, 2007
چیف جسٹس گرفتار
پاکستان کے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری اور بیرسٹر اعتزاز احسن کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔
تمام موبائل فون کا بین الاقوامی رابطہ [international calls] منقطع کیا جا چکا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ کسی بھی وقت مقامی رابطہ [local calls] بھی منقطع کر دیا جائے گا
اسلام آباد میں انٹرنیٹ پر تمام پاکستانی ٹی وی چینلز اور پاکستانی آن لائین اخبار بلاک کر دئیے گئے ہیں
عدالتِ عظمٰی پر فوج کا قبضہ
عدالتِ عظمٰی کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دئیے گئے ہیں ۔ عدالتِ عظمٰی پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے ۔
پاکستان کے چیف جسٹس کو کہہ دیا گیا ہے کہ تماری ہمیں ضرورت نہیں ہے ۔ چیف جسٹس کو زبردستی سپریم کورٹ کی عمارت سے نکال دیا گیا ۔
پاکستان بار کونسل نے مارشل لاء اور ایمرجنسی کی مخالف کا فیصلہ کیا ہے
عدالتِ عظمٰی کے آٹھ ارکان کے بنچ نے ایمر جنسی کو کالعدم قرار دے دیا ہے
آئین معطل کر دیا گیا ہے
ایمرجنسی نافذ
آج مغرب کے بعد اسلام آباد میں خبروں والے تمام ٹی وی چینل بند کر دئے گئے تھے ۔ شام 6 بجے کے قریب معلوم ہوا کہ پاکستان میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جس میں پرویز مشرف کو ایکسٹرا جوڈیشیل پاورز دی گئی ہیں ۔
یا اللہ ہمارےگناہ معاف فرما اور ہمارے ملک کو ان مطلب پرست شیطانوں سے بچا ۔
یا اللہ مظلوموں کیلئے رحیم و کریم اور ظالموں کیلئے جبّار و قہّار بن جا ۔
اے مددگارِ غریباں اے پناہِ بے کساں
اے نصیرِ عاجزاں اے مایہ بے مائیگاں
خلق کے راندے ہوئے دنیا کے ٹھُکرائے ہوئے
آئے ہیں آج در پہ تیرے ہاتھ پھیلائے ہوئے
خوار ہیں بدکار ہیں ڈوبے ہوئے ذلّت میں ہیں
کچھ بھی ہو لیکن تیرے محبوب کی اُمت میں ہیں
رحم کر اپنے نہ آئینِ کرم کو بھول جا
ہم تجھے بھولے ہیں لیکن تو نہ ہم کو بھول جا
مغربی طرز کی آزادی نسواں
ایک سروےسے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ میں ہر 100 میں سے 60 عورتیں دفاتر یا کام پر کسی نہ کسی ساتھی کے ساتھ خفیہ معاشقہ کرتی ہیں جن میں سے 53 کا کہنا ہے کہ وہ اس معاشقہ پر نادم نہیں ۔ 30 اپنی جنسی خواہش کام کی جگہ پر پوری کر لیتی ہیں ۔ اب باس کے ساتھ معاشقہ بھی قابل قبول ہو رہا ہے اور 75 فیصد عورتیں ایسا کرنا چاہیں گی ۔ کام پر معاشقہ کرنے والی عورتیں شراب خانوں ۔ ڈنر پارٹیوں یا انٹرنیٹ ڈیٹنگ کا سہارا نہیں لیتیں ۔
سروے کے مطابق برطانوی مرد اور عورتیں اب یورپ میں لمبے اوقات کام کرتے ہیں اور وہ جاپان سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ عورتوں کو کام پر پیٹرن میں بڑی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 1992ء کے بعد سے 52 فیصد اب 48 گھنٹے ہفتہ کام کرنے کی توقع کرتی ہیں ۔ 64 فیصدکا کہنا ہے کہ وہ کام پر مرد ساتھیوں سے فلرٹ کرتی ہیں ۔ 80 فیصد کو کام پر کسی نہ کسی سے دلکشی رہی ہے ۔ ان کا ہدف اعلیٰ عہدوں پر معمور مرد ہوتے ہیں اور ان کی تعداد 61 فیصد ہے۔ جن کا معاشقہ ہوتا ہے ان میں سے بہت کم کی ملازمت ختم ہوئی ہے ۔ فلرٹ کرنے کا عام طریقہ ای میل یا چائے کے وقفہ میں ہوتا ہے ۔ 70 فیصد کے نزدیک فلرٹ کرنا کام کو دلچسپ بناتا ہے