میری آٹھویں جماعت کے زمانہ کی ڈائری سے ۔ 55 سال قبل لکھی ہوئی
کِشتیاں سب کی کِنارے پہ پہنچ جاتی ہیں
ناخدا جِن کا نہ ہو ۔ اُن کا خُدا ہوتا ہے
میری کِشتی خُدا کے آسرے پہ چھوڑ کے ہٹ جا
میری کِشتی اگر اے ناخدا تکلیف دیتی ہے
میری آٹھویں جماعت کے زمانہ کی ڈائری سے ۔ 55 سال قبل لکھی ہوئی
کِشتیاں سب کی کِنارے پہ پہنچ جاتی ہیں
ناخدا جِن کا نہ ہو ۔ اُن کا خُدا ہوتا ہے
میری کِشتی خُدا کے آسرے پہ چھوڑ کے ہٹ جا
میری کِشتی اگر اے ناخدا تکلیف دیتی ہے