Daily Archives: June 5, 2005

مکّر کٹّیاں نیں چھاواں ۔۔۔۔۔

ہوسٹن (امریکہ) میں مقیم ایک پاکستانی ڈاکٹر امان اللہ خان کی کتاب سے کچھ پنجابی شعر نقل کر رہا ہوں۔ یہ افغانستان اور عراق کی صورت حال کی غمازی کرتے ہیں۔ میں شاعری کے اسلوب سے واقف نہیں ہوں پھر بھی نیچے اردو میں ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

مکْر کُٹیاں نیں چھاوان

پیا لگدا حشر دیہاڑا سی ۔ ہر پاسے چیک چہاڑا سی
اینج لگدا سی بغداد نئیں ۔۔۔ فیر ہویا کی سی۔ یاد نئیں
اج چار دوالے کیہڑے نیں ۔ میرا فوٹو لیندے کیہڑے نیں
اے لتاں کس نے کٹیاں نیں ۔ جتھے ہتھ سن اوتھے پٹیاں نیں
او ویلے یاد پئے آوندے نیں ۔ میرے اتھرو وگدے رہندے نیں
جیڑے گھرسن سارے ڈھے گئے نیں ۔ ہن کھنڈرای باقی رہ گئے نیں
کوئی جا کے اج لیا دیوے ۔۔۔ مینوں پورا کوئی بنا دیوے

اردو ترجمہ حاضر ہے۔ میں شاعر نہیں ہوں۔ غلطیاں درگذر کیجئےگا۔

پُر فریب ہیں سائے

وہ لگتی حشر کی گھڑی تھی ۔ ہر سو چیخ پکار۔ وہاں پڑی تھی
یوں لگتا تھا کہ بغداد نہیں ۔۔۔ پھر ہوا کیا تھا۔ کچھ یاد نہیں
آج چاروں طرف میرے کون ہیں ۔ یہ فوٹو میرا لیتے کون ہیں
یہ ٹانگیں کس نے کاٹی ہیں ۔ ہاتھ جہاں تھے وہاں بھی پٹیاں ہیں
وہ واقعات ہیں اب یاد آنے لگے۔ میرے آنسو بھی ہیں بہنے لگے
جو گھر تھے سارے گرچکے ۔ اب کھنڈر ہی باقی رہ گئے ہیں
کوئی جا کے مجھےلادیوے ۔ مجھے پورا تو کوئی بنا دیوے